نئی دہلی،3؍جولائی (ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کی کسی بھی امکان کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کانگریس نے آج کہا کہ ریاست میں جلد سے جلد انتخابات کرائے جانے چاہئے۔
سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر جموں و کشمیر سے جڑے کانگریس کے کور گروپ کی میٹنگ ہوئی جس میں ریاست کے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کور گروپ میں کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد، پی چدمبرم، کانگریس کی جنرل سکریٹری اور ریاست انچارج امبیکا سونی اور ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر موجود تھے۔دریں اثنا سری نگر میں کل کانگریس کے ممبران اسمبلی، ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے اہم رہنماؤں کی میٹنگ ہوگی جس میں سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ میٹنگ کے بعد امبیکا سونی نے کہا کہ کل سری نگر میں پارٹی کے اہم رہنماؤں اور ممبران اسمبلی کی میٹنگ ہوگی جس میں سیاسی حالات پر گفتگو کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں جلد انتخابات کرائے جانے چاہئے۔ پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے ساتھی اور انچارج (امبیکا سونی) نے صاف کیا ہے اور میں بھی یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں جلد سے جلد انتخابات کرائے جانے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں پہلے تو مرکز نے اقتدار کا گلا گھونٹا پھر اس شورش زدہ ریاست کو منجدھار میں چھوڑنے کے بعد وہ کہہ رہے ہیں کہ اب یہ لوگ حکومت بنا رہے ہیں، ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی کی کانگریس کی سینئر لیڈر سونیا گاندھی سے ملاقات کے امکان پر امبیکا سونی نے کہا کہ انہیں اس ذیل میں کوئی اطلاع نہیں ہے ۔امبیکا سونی نے کہا کہ پی ڈی پی کے ساتھ کسی بھی طرح کے اتحاد کے رخ پر کانگریس قائم ہے۔جموں و کشمیر کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے نامہ نگاروں سے کہا کہ کانگریس نے اس کیس (پی ڈی پی سے اتحاد) میں نہ تو کوئی قدم اٹھایا ہے اور نہ ہی کوئی کوشش کی ہے، گورنر کو آئینی فیصلہ لینا چاہئے۔ جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت سے بی جے پی کے الگ ہونے کے بعد اب ایسی خبریں آئی ہیں کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی حکومت تشکیل کے لئے کانگریس سے رابطہ کر رہی ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے ریاست میں پی ڈی پی کے ساتھ حکومت کے قیام کے امکان کو کل سرے سے خارج کر دیا تھا ۔